حیدرآباد،27؍جنوری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آل انڈیامجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ قانون سماجی برائیوں کا حل نہیں ہے۔وہیں انہوں نے دعوی کیا ہے کہ تین طلاق بل کو مسلم مردوں کو جیل بھیجنے کی ایک سازش بتایاہے۔اے آئی ایم کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق گزشتہ رات تحفظ شریعت کے موضوع پرمنعقدہ ایک عوامی جلسے میں اویسی نے کہا کہ قانون لانے کے بعد کیا تین طلاق رک جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جہیز قتل اور خواتین کے خلاف ہونے والے دیگر جرائم تب بھی نہیں رک رہے ہیں جب ان جرائم کے خلاف خصوصی قوانین بنائے گئے ہیں۔اویسی نے کہاکہ سال 2005 سے 2015 کے درمیان ہندوستان میں 0000 8سے زیادہ جہیز قتل ہوئے ہیں،جہیز کے لئے یومیہ 22 خواتین کوماراجاتاہے اورنربھیامعاملے کے بعد بھی ان معاملات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے، قانون میں ان سب کا جواب نہیں ہے۔اویسی نے الزام لگایا ہے کہ تین طلاق کا بل اقلیتی کمیونٹی کے خلاف سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیونٹی کی خواتین کو سڑک پر لانے اور مردوں کو جیل بھیجنے کی ایک سازش ہے۔ بی جے پی کی این ڈی اے حکومت نے مسلم مذہبی رہنماؤں سے صلاح و مشورہ کئے بغیر پارلیمنٹ سے بل منظور کرانے کی کوشش کی۔مسلم خواتین (شادی حقوق تحفظ) بل، 2017 لوک سبھا کی طرف سے منظور کر دیا گیا لیکن یہ راجیہ سبھا سے پاس نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے تفصیلی جائزہ لینے کے لئے سلیکٹ کمیٹی میں بھیجا جائے۔ قانونی مسودہ کے مطابق شوہر کو تین طلاق کے لئے تین سال کی جیل کی سزا دی جا سکتی ہے۔